Thursday, May 17, 2012

مصنوعی افیونی منشیات

نشہ و کیف کی تلاش میں لوگوں کی دلچسپی افیون اور اس پر مشتمل کلویڈوں تک محدود نہیں رہی بلکہ آگے بڑھ کر انہوں نے مختلف کیمیاوی مصادر سے جدید مصنوعی مرکبات تیار کرلئے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس دلچسپی میں روز افزوں ترقی ہورہی ہے۔ جب سے دوا سازی کی صنعت نے جدیدمرکبات تیار کرنے شروع کردئیے ہیں یعنی پتھر کے کوئلہ کے تارکول اور پٹرولیم کے مشتقات کے باقی ماندہ اجزاء سے اب ایسے مرکبات تیار کرلیناممکن ہوچکا ہے جن کے متداول افیونوں جیسے اثرات ہوں۔ ان مرکبات کی تعداد میں اب تو روز بروز اضافہ ہوتارہے گا۔
ان مرکبات میں سے ایک کلوروہیٹررٹ پیتھڈین ہے جو کہ مختلف تجارتی ناموں سے فروخت کی جاتی ہے جیسے ڈولوزال ۔ اسے تشنج کے توڑ کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر اس میں درد کو سکون بخشنے والے خواص پائے جاتے ہیں۔یہ مارفین کی طرح ہے مگر مارفین کی سی کارکردگی اور تاثیر حاصل کرنے کے لئے اس کی مقدار میں 5سے 10 خوراک کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ ڈیروبورنامی سائنسدان نے سب سے پہلے اس مرکب کا مطالعہ کیااور اس نے دیکھا کہ یہ اپنے نشہ کے لحاظ سے دیگر افیونات کی طرح ہے۔ اس کے استعمال سے لاغری ہوجاتی ہے جو جلد کے خشک ہوجانے تک رہتی ہے۔ اس کے انجکشن سے نہ صرف نشہ کی حالت طاری ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ عارضی ہیجانی کیفیت بھی پیدا ہوجاتی ہے جو ہر انجکشن کے ساتھ ازسر نوپیدا ہوتی رہتی ہے۔
اسی طرح مورفینان ، میتھاڈون اور آکسی کوڈون جیسے مرکبات بھی مارفین کے نشہ کی طرح سرشاری کا سبب بنتے ہیں مگر انہیں دواؤں کی فہرست نمبر 2 میں رکھا گیا ہے جب کہ 1948 ء سے یہ عام پھیل چکے ہیں۔ اور یہی حال پالفیوم کے مرکب کا ہے جومارفین کی طرح مسکن کارکردگی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ اس کی یہ کارکردگی مارفین سے بھی بڑھ کر ہے۔ انجکشن کے بعد یہ شکستگی اور کمزوری کی شدیدی صورت کا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ناقابل برداشت دردوں کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔
دواؤں کی عالمی مارکیٹ میں موجود اکثر دوائیں مکمل طور پرمحفوظ اور سالم ہوتی ہیں اور نشہ کا سبب نہیں بنتیں۔ یہاں یہ اشارہ کرنا ضروری ہے کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ مختلف ممالک میں ہونے والے سائنسی تجربات اور اعداد و شمار سے اس دعویٰ کی تکذیب ہوتی ہے۔ مارکیٹ میں ایسے خطرناک مرکبات ہیں جو مریض کو نشہ کا عادی بنادیتے ہیں اور مریض ان کااس قدر عادی ہوجاتا ہے کہ وہ ان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

No comments:

Post a Comment