اسلام نے ہر ایسی چیز کے استعمال کو حرام اور ممنوع قرار دیا ہے جس سے انسانی زندگی اور صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہو یا جس سے مال کے تلف ہونے اور ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ دین اسلام ہم میں سننے، دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں کے بارے میں باز پرس کا احساس پیدا کرتا ہے لہذا ہر ایسا عمل جس سے انسان اپنی سوچ، سمجھ اور عقل و خرد کی استعداد سے کام لینا ترک کردے اور یوں اپنے فرائض منصبی سے غافل ہوجائے وہ ایک ناقابل برداشت جرم ہے اسی لئے اسلام میں شراب اور تمام نشہ آور اشیاء کے استعمال کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ نے اس سلسلہ میں ایک واضح شرعی اصول بیان فرمایا ہے :
Welcome to Drug History, A Department of Drug Where You Find Post Related to Drug History.
Wednesday, June 20, 2012
Monday, June 11, 2012
منشیات کا استعمال ، صحت یا عدم صحت؟
منشیات کا استعمال فرد کو انفرادی و اجتماعی فرائض کی بجاآوری سے روکتا ہے، انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت تباہ کردیتا ہے، انسان کو زندہ درگور کردیتا ہے اور خود کشی کا رجحان بڑھاتا ہے جو اسلام میں گناہ کبیرہ ہے۔ جو لوگ اس گناہ میں ملوث ہوجائیں ان کے لئے سزا کا حکم ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں منشیات کے استعمال سے بڑے واضح الفاظ میں منع فرمایا ہے:
Friday, June 8, 2012
Thursday, June 7, 2012
عربی زبان میں منشیات کے لئے الفاظ
عربی زبان میں منشیات کے لئے مخدر (جمع مخدرات) کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کی ادائیگی کے لئے عربی کے کچھ اور الفاظ بھی ہیں۔ عربی لغت کی کتابوں میں مخدر اور مفتر دونوں قریب المعنی لفظ ہیں۔ لسان العرب میں ہے
الفتر، الضعف یعنی کمزور۔ فتر فورا کا مطلب ہے لانت مفاصلہ و ضعف یعنی اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے اور وہ کمزور ہوگیا‘‘۔’’
المصباح المنیر اور معجم متن اللغۃ میں ہے
’’کسی عضو کے خدر کرنے کا مطلب ہے وہ ڈھیلا پڑگیا اور حرکت کے قابل نہ رہا اور خدرت عینہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی آنکھ خس و خاشاک یا تنکا وغیرہ کی وجہ سے بوجھل ہوگئی۔ الخدرۃ کا مطلب کمزوری ہے اور الفتور اعضاء اور جسم کو پہنچتا ہے‘‘۔
امام القرافی نے اپنی کتاب ’’الفروق‘‘ میں مسکر، مرقد اور مفسد میں فرق بیان کیا ہے
وہ یہ کہ مسکر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے مگر حواس قائم رہیں، نشہ باز سمجھے کہ وہ نشہ میں ہے، وہ اپنے کو مسرور اور بہادر، سخی اور مضبوط دل سمجھے۔ مرقد یہ ہے کہ جس سے حواس خمسہ جاتے رہیں جیسے بھنگ۔ مفسد وہ ہے جو عقل میں خلل ڈال دے جیسے حشیش اور دیگر منشیات جو بعدمیں موجود چاروں انسانی خوطوں Humours یعنی خون، بلغم،صفرا اور سودا کو ابھاردے۔ لہذا ان منشیات کے استعمال کنندگان کی نوعیت سے ان (منشیات) کے اوصاف اور اثرات مختلف ہوجاتے ہیں جس کا مزاج صفراوی ہو اس میں حدت پیدا ہوجاتی ہے۔ بلغمی مزاج والے پر غنودگی اور خاموشی چھا جاتی ہے۔ سوادوی مزاج والا رونا دھونا شروع کردیتا ہے اور دموی مزاج والا مسرور ہوجاتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ منشیات استعمال کرنے والوں میں کوئی تو زور زور سے رورہا ہے، کوئی بالکل خاموش ہے اور کسی کے سرور و انبساط میں اضافہ ہوجاتا ہے‘‘۔
Monday, June 4, 2012
منشیات
اﷲ عزوجل نے تمام بنی آدم کو مکرم و محترم ٹھہرایا ہے۔ اس نے ان کے لئے طیب چیزوں کو حلال اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اﷲ نے انسانوں کو ہر اس چیز سے روکا ہے جو ان کے دین کو خراب کردے اور ان کے مفادکو نقصان پہنچائے۔ شریعت اسلامی نے پانچ ضروریات جن پر صالح معاشرہ کا قیام ہوتا ہے ، کی حفاظت فرض قرار دی ہے یعنی جان، عقل، دین، مال اور عزت۔ محکم نصوص کی رو سے ہر وہ عمل حرام ہے جس سے ان ضروریات خمسہ کو نقصان پہنچے۔
Friday, May 18, 2012
HISTORY OF ANTIBIOTICS. MODE OF ACTION , HEALTH EDUCATION , ICSP , URDU / HINDI
HISTORY OF ANTIBIOTICS. MODE OF ACTION , HEALTH EDUCATION , ICSP , URDU / HINDI
http://www.youtube.com/watch?v=YH0TIJUIc4c
خواب آور و سکون بخش ادویات
وہ ادویات جو ڈاکٹر ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے تجویز کرتے ہیں ان کو نشہ آور (سکون بخش) ادویات کہاجاتا ہے۔ جسم پر ان کا اثر بالکل خواب آور گولیوں سے ملتا جلتا ہوتا ہے جو دماغی کارکردگی کو سست رفتار بناتی ہیں۔ نشہ آور (سکون بخش) ادویات عموما گولی یا کیپسول کی شکل میں منہ کے ذریعہ سے نگلی جانتی جو سفید، پیلی یا زرد رنگ کی ہوتی ہیں۔ بعض عام استعمال ہونے والی نشہ آور ادویات میں لبریم (Librium)ایٹی وان (Ativan) اور ویلیم (Valium) ہوتی ہیں جنہیں ڈائزایام (Diazepam) بھی کہا جاتا ہے۔
نسوار
نسوار استعمال کرنے والوں میں نپولین بوناپارٹ، کنگ جارج تھری کی ملکہ شارلٹ اور پوپ بینڈکٹ سمیت کئی ملکوں کے بادشاہ شامل ہیں۔ہندوستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی آمد کے ساتھ یہ مصنوعات اٹھارہویں صدی میں متعارف ہوئیں اور اس کا استعمال پاک و ہند میں پھیل گیا۔ نسوار کی موجود اقسام میں ہری نسوار اور کالی نسوار کا استعمال عام ہے۔ جو تمباکو،کوئلے کی راکھ، چونے کی مدد سے بنائی جاتی ہے۔ کالی نسوار کے لئے خصوصی تمباکو صوابی سے آتا ہے جس پر حکومت ٹیکس لیتی ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ نسوار پختونوں کی ثقافت ہے محض غلط فہمی اور کم آگاہی پرمنحصر ہے۔
گٹکا
پاکستانی قوم اپنی تاریخ کے شرمناک لمحات کو بھلادینے میں ثانی نہیں رکھتی۔ لہذا وہ لوگ جنہوں نے گٹکا ایجاد ہوتے دیکھا یا وہ لوگ جو گٹکے سے محض اپنے نشہ کی لت پوری کرتے ہیں۔ اس کی ایجاد کے شرمناک پہلو سے یکسر بیگانہ ہیں۔دسمبر 1971 ء پاکستان کی تاریخ کا اندوہ ناک و شرمناک دن تھا جب نہ صرف قومی نظریہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا بلکہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا ملک بھی دولخت ہوگیا۔ اس صورت حال میں یہی نہیں کہ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے الگ ہوا اور پاکستان کی بے مثل فوج کے 90 ہزار فوجی بھارت نے قیدی بنالئے بلکہ ایسی مخدوش صورت حال میں مغربی پاکستان کی بقاء بھی سوالیہ نشان بن گئی۔
جنگ کے سبب دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کی بندش کے ساتھ ساتھ ملکی زراعت و صنعت پر بھی سکوت طاری تھا۔ ایسے حالات میں حکومتیں اناج کے حوالہ سے کفایت شعاری سے کام لیتی ہیں اور راشن بندی کردیتی ہیں۔ چنانچہ تمام خاندانوں کو ان کی ضروریات کے مطابق یا اس سے کچھ کم اناج فراہم کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایاجاسکے اور ملک کو خانہ جنگی سے بچایا جاسکے۔ تاہم پاکستان میں لوگوں کو راشن یعنی دال چاول کی فکر نہیں تھی اور نہ جان، مال اور آبرو کی کہ بھارت نے اگر اس حصہ پر بھی قبضہ کرلیا تو کیا ہوگا۔ فکر تھی تو اس بات کی کہ پان کا نشہ کیوں کر پورا کیا جائے؟ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہوجانے کے بعد پان اور چھالیہ کی آمد بند ہوچکی تھی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے سمندری آمد و رفت کی بندش کے باعث سری لنکا اور دیگر ممالک سے بھی پان اور چھالیہ کی آمد بھی ممکن نہ تھی جب کہ بھارت تو تھا ہی دشمن۔
چنانچہ اس نشہ کو پورا کرنے کے لئے لوگوں نے کھجور کی گٹھلی اور املی کی گٹھلی کو چھالیہ کے متبادل کے طورپر جب کہ پالک کے پتوں، لہسوڑے کے پتوں اور امرود کے پتوں کو پان کے متبادل کے طور پر استعمال کیا ۔ مختلف گٹھلیوں کے استعمال نے تو نشہ پورا کرنے میں کچھ مدد دی لیکن مختلف پتوں کے استعمال نے مزہ نہ دیا چنانچہ متبادل پتوں کے استعمال کو ترک کر کے محض مختلف گٹھلیوں کے استعمال کو چھالیہ کے متبادل کے طورپر جاری رکھا۔
اب سوال یہ تھا کہ اس نئے آئٹم کو کیا نام دیا جائے کیونکہ یہ پان تو بہرحال نہیں تھا چنانچہ گٹھلیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں اور گٹکوں کے استعمال کے باعث اس کانام گٹکا پڑگیا۔ بعد ازاں جب چھالیہ کی درآمد شروع ہوئی تو قوم اس وقت تک گٹکے کی لت میں پڑچکی تھی اور اب یہ منہ اور گلے کے کینسر کا ایک بڑا ذریعہ بننے کے ساتھ ہی حکومت اور انسانی صحت کے لئے کام کرنے والے اداروں اور افراد کے لئے درد سر بن چکا ہے۔
جنگ کے سبب دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کی بندش کے ساتھ ساتھ ملکی زراعت و صنعت پر بھی سکوت طاری تھا۔ ایسے حالات میں حکومتیں اناج کے حوالہ سے کفایت شعاری سے کام لیتی ہیں اور راشن بندی کردیتی ہیں۔ چنانچہ تمام خاندانوں کو ان کی ضروریات کے مطابق یا اس سے کچھ کم اناج فراہم کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایاجاسکے اور ملک کو خانہ جنگی سے بچایا جاسکے۔ تاہم پاکستان میں لوگوں کو راشن یعنی دال چاول کی فکر نہیں تھی اور نہ جان، مال اور آبرو کی کہ بھارت نے اگر اس حصہ پر بھی قبضہ کرلیا تو کیا ہوگا۔ فکر تھی تو اس بات کی کہ پان کا نشہ کیوں کر پورا کیا جائے؟ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہوجانے کے بعد پان اور چھالیہ کی آمد بند ہوچکی تھی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے سمندری آمد و رفت کی بندش کے باعث سری لنکا اور دیگر ممالک سے بھی پان اور چھالیہ کی آمد بھی ممکن نہ تھی جب کہ بھارت تو تھا ہی دشمن۔
چنانچہ اس نشہ کو پورا کرنے کے لئے لوگوں نے کھجور کی گٹھلی اور املی کی گٹھلی کو چھالیہ کے متبادل کے طورپر جب کہ پالک کے پتوں، لہسوڑے کے پتوں اور امرود کے پتوں کو پان کے متبادل کے طور پر استعمال کیا ۔ مختلف گٹھلیوں کے استعمال نے تو نشہ پورا کرنے میں کچھ مدد دی لیکن مختلف پتوں کے استعمال نے مزہ نہ دیا چنانچہ متبادل پتوں کے استعمال کو ترک کر کے محض مختلف گٹھلیوں کے استعمال کو چھالیہ کے متبادل کے طورپر جاری رکھا۔
اب سوال یہ تھا کہ اس نئے آئٹم کو کیا نام دیا جائے کیونکہ یہ پان تو بہرحال نہیں تھا چنانچہ گٹھلیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں اور گٹکوں کے استعمال کے باعث اس کانام گٹکا پڑگیا۔ بعد ازاں جب چھالیہ کی درآمد شروع ہوئی تو قوم اس وقت تک گٹکے کی لت میں پڑچکی تھی اور اب یہ منہ اور گلے کے کینسر کا ایک بڑا ذریعہ بننے کے ساتھ ہی حکومت اور انسانی صحت کے لئے کام کرنے والے اداروں اور افراد کے لئے درد سر بن چکا ہے۔
شیشہ
شیشہ ہے کیا؟ پاکستان میں شیشہ کے بارے میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ اس میں مختلف پھلوں کے ذائقے کا استعمال ہے۔ اس لئے یہ صحت کے لئے نقصان دہ نہیں لیکن پروفیسر جاوید کہتے ہیں کہ شیشہ ذائقہ دار تمباکو کا نام ہے جو حقہ کے ذریعہ پیا جاتا ہے۔ ان کے بقول ظاہر ہے کہ پھلوں کے ذائقہ سے تو کوئی عادی نہیں ہوگا ، تمباکو کا استعمال ہے اس لئے لوگ عادی ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے خرید کر اسے گھر پر رکھ لیا ہے جہاں روزانہ اس کا استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کی ممانعت سے متعلق قانون موجود ہے چونکہ شیشہ میں تمباکو ہوتا ہے اس لئے یہ قرار داد اس قانون کی حمایت کرتی ہے۔
گوند نما اور چپکنے والے مواد
وجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں ایک بڑی بری عادت پائی جاچکی ہے۔ ہر جگہ گھٹیا قسم کے سائل اور پگھلنے والے مادے ناک کے ذریعہ سونگھے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد اس قسم کا نشہ حاصل کرنا ہوتا ہے جو گلا گھٹنے کے مشابہ ہوتاہے۔ یہ مرکبات چونکہ بہت ارزاں ہیں اور ان کا حاصل کرنا بھی بہت آسان ہے اس لئے یہ مغرب و مشرق کے نوجوانوں میں بڑی تیزی سے مقبول ہورہے ہیں۔ یہاں ان میں سے مشہور ترین مرکبوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ پٹرول سے بنائے گئے کاربن ہائیڈوریڈ، خلون ایٹیل کے آسیٹ، طولوین اور کچھ الکحل، ایتھر، کلوروفورم، گیس پاش رومال، گوند اور وارنش کے پگھلے ہوئے مرکبات، لائٹر کی گیس، بعض خوشبو اڑانے والے مرکبات، چربی اور چکنائی کو پگھلانے والے مرکبات وغیرہ۔
ان گوندنما اور چپکنے والے مرکبات کے استعمال کا زیادہ معروف طریقہ یہ ہے کہ ان مذکورہ اشیاء کو کاغذ یا پلاسٹک کی ایک تھیلی میں ڈال لیا جاتا ہے پھر اوپر چڑھتے ہوئے بخارات کو ناک کے ذریعہ کھینچنے کے لئے چہرہ براہ راست تھیلی میں رکھ دیا جاتا ہے۔ کئی لوگ کپڑے کا ایک ٹکڑا لے کر اس کو گوند میں گیلا کرلیتے ہیں پھر اسے منہ یا ناک پر رکھ لیتے ہیں پھر ایک معدنی برتن میں پگھلنے والی چیزیں ڈال کر انہیں آگ پر رکھ دیتے ہیں پھر فوراً ان گرم گرم بخارات کو ناک کے ذریعے کھینچتے ہیں، کئی دفعہ اس اڑجانے والے پگھلے ہوئے مواد کو براہ راست منہ میں ڈال لیا جاتا ہے یا اسے کچھ میٹھے شربتوں کے ساتھ پی لیا جاتا ہے۔
ان گوندنما اور چپکنے والے مرکبات کے استعمال کا زیادہ معروف طریقہ یہ ہے کہ ان مذکورہ اشیاء کو کاغذ یا پلاسٹک کی ایک تھیلی میں ڈال لیا جاتا ہے پھر اوپر چڑھتے ہوئے بخارات کو ناک کے ذریعہ کھینچنے کے لئے چہرہ براہ راست تھیلی میں رکھ دیا جاتا ہے۔ کئی لوگ کپڑے کا ایک ٹکڑا لے کر اس کو گوند میں گیلا کرلیتے ہیں پھر اسے منہ یا ناک پر رکھ لیتے ہیں پھر ایک معدنی برتن میں پگھلنے والی چیزیں ڈال کر انہیں آگ پر رکھ دیتے ہیں پھر فوراً ان گرم گرم بخارات کو ناک کے ذریعے کھینچتے ہیں، کئی دفعہ اس اڑجانے والے پگھلے ہوئے مواد کو براہ راست منہ میں ڈال لیا جاتا ہے یا اسے کچھ میٹھے شربتوں کے ساتھ پی لیا جاتا ہے۔
الکحل اور اس کے مشروبات
الکحل اگر خالص ہو تو سیال، ہلکی بو والا اور اڑجانے والا ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ جلانے والا اور سخت ہوتا ہے۔ اسے عام طر پر رس دار پھلوں، غلوں اور سبزیوں کو نچوڑ کر ان کی تقطیر اور تخمیر سے تیار کیا جاتا ہے۔الکحل اپنی ترکیب میں مشروبات کے تین مخصوص نمایاں مجموعوں میں شامل ہے۔ یہ تینوں مجموعے، اپنی ساخت میں الکحل کی مقدار کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں:
1۔
بیئر (Beer) جو اوسطاً 6% الکحل پر مشتمل ہوتی ہے۔
2۔
شرابیں جو اوسطاً 12% الکحل پر مشتمل ہوتی ہیںں اور کبھی سخت شرابوں میں یہ نسبت 21% تک جاپہنچتی ہے۔
3۔
مشروبات روحیہ (Alcoholic Beverags) جو اوسطاً 40% الکحل پر مشتمل ہوتے ہیں اور کبھی ان میں الکحل کی مقدار اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
الکحل کے مشروبات بلاشبہ اس لائق ہیں کہ انہیں ’’خطرناک منشیات‘‘ کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ یہ قدیم زمانہ سے معروف ہیں اور دنیا کے تمام حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کی بے شمار اقسام ہیں۔ ان کا تیار کرنا کچھ مشکل نہیں۔ تمام قسم کے غلوں اور پھلوں کو خمیر دے کر اسے تیار کیا جاسکتا ہے۔ مغربی اقوام کے تقریباً 70% لوگ بلاشبہ اپنی عام زندگی میں ان نشہ آور مشروبات کو استعمال کرتے ہیں۔
1۔
بیئر (Beer) جو اوسطاً 6% الکحل پر مشتمل ہوتی ہے۔
2۔
شرابیں جو اوسطاً 12% الکحل پر مشتمل ہوتی ہیںں اور کبھی سخت شرابوں میں یہ نسبت 21% تک جاپہنچتی ہے۔
3۔
مشروبات روحیہ (Alcoholic Beverags) جو اوسطاً 40% الکحل پر مشتمل ہوتے ہیں اور کبھی ان میں الکحل کی مقدار اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
الکحل کے مشروبات بلاشبہ اس لائق ہیں کہ انہیں ’’خطرناک منشیات‘‘ کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ یہ قدیم زمانہ سے معروف ہیں اور دنیا کے تمام حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کی بے شمار اقسام ہیں۔ ان کا تیار کرنا کچھ مشکل نہیں۔ تمام قسم کے غلوں اور پھلوں کو خمیر دے کر اسے تیار کیا جاسکتا ہے۔ مغربی اقوام کے تقریباً 70% لوگ بلاشبہ اپنی عام زندگی میں ان نشہ آور مشروبات کو استعمال کرتے ہیں۔
کاکاؤ
کاکاؤ ایک پودا ہے جو گرم علاقوں میں اگتا ہے۔کاکاؤ کے پودے کی بلندی 8سے10 میٹر تک ہوتی ہے۔ یہ کافی حد تک چیری کے پودے سے ملتا ہے۔ کاکاؤ (Cacao) کے پتے بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ اس کی لکڑی سرخ رنگ کی ہوتی ہے۔ یہ سارا سال پھل دیتا ہے۔ کاکاؤ کے دانے پھلیوں میں ہوتے ہیں پھر یہ زرد یا سرخ رنگ کے ہوجاتے ہیں۔ ان کے دانوں کو ایک خاص ترتیب سے خشک کیا جاتا ہے۔ خشک ہونے کے بعد ان کا رنگ قہوہ جیسا ہوجاتا ہے۔ دانوں کو کافی کی طرح بودیتے ہیں، کوٹتے اور نرم کرتے ہیں۔ اس پاؤڈر کو دودھ یا ابلتے ہوئے پانی سے ملاکر پیتے ہیں۔ کاکاؤ چاکلیٹ بنانے، کئی دواؤں اور کئی مقوی شربتوں میں استعمال ہوتا ہے۔
متہ
متہ کی کاشت جنوبی امریکہ میں ہوتی ہے جیسے پیراگوئے اور برازیل میں۔ اسی وجہ سے اس کا سائنسی نام برازیلی متہ (Ilex mate brasliensis) اور متہ پارگوانی (Ilex paraguayensis) ہے۔ اس کے پودے کی لمبائی 3سے 6میٹر تک ہوتی ہے۔ اس کے پتے استعمال کئے جاتے ہیں اور ان پتوں سے بھگویا گیا یا ابالا ہوا چائے کی طرح کا ایک مشروب تیار کیا جاتا ہے اور اسے مخصوص رسوم اور روایات کے ماحول میں پیا جاتا ہے۔ عرب مہاجروں نے متہ کا استعمال کئی عرب ملکوں میں بھی منتقل کردیا ہے جیسے شام میں قلمون کے علاقہ میں۔
متہ اپنی بناوٹ میں کافئین کے علاوہ ٹیوفیلین کی معمولی سی مقدار پر بھی مشتمل ہوتا ہے جو مرکزی عصبی نظام کو کافئین کی طرح متاثر کرتا ہے اور طبی طور پر پھیپھڑوں میں ہونے والی ایک بیماری جس کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے، کی تکلیف کم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگر متہ کی اعلی مقدار استعمال کی جائے تو یہ واضح طور پر مرکزی عصبی نظام کو متاثر کرتی ہے اور دماغ کے خلیوں کو خراب کرنے کا کام کرتی ہے۔ اس کی کم مقدار قہوہ اور چائے کی طرح چستی آور ہے۔
متہ اپنی بناوٹ میں کافئین کے علاوہ ٹیوفیلین کی معمولی سی مقدار پر بھی مشتمل ہوتا ہے جو مرکزی عصبی نظام کو کافئین کی طرح متاثر کرتا ہے اور طبی طور پر پھیپھڑوں میں ہونے والی ایک بیماری جس کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے، کی تکلیف کم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگر متہ کی اعلی مقدار استعمال کی جائے تو یہ واضح طور پر مرکزی عصبی نظام کو متاثر کرتی ہے اور دماغ کے خلیوں کو خراب کرنے کا کام کرتی ہے۔ اس کی کم مقدار قہوہ اور چائے کی طرح چستی آور ہے۔
چائے
چائے کا ایک چھوٹا سا پودا ہے جو مشرق بعید میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہندوستان اور چین کی اہم پیداوار ہے۔ چائے کی پتی کی بڑے پیمانہ پر تجارت ہوتی ہے، سب سے زیادہ چائے پینے والے برطانیہ، ہالینڈ اور امریکہ کے باشندے ہیں۔ چینی چوتھی صدی عیسوی سے چائے کے عادی تھے اور اس کے پتوں کے ساتھ چاول، نمک اور سنگترہ کا چھلکا ملاکر خاص قسم کے جام بناتے تھے۔ یہ عادت تبت اور منگولیا کے باشندوں میں بھی پائی جاتی تھی۔ یہاں سے روس کو منتقل ہوئی۔ پتی کو بھگو کر یا ابال کرپینے کی عادت پندرہویں صدی میں شروع ہوئی۔
چائے کی دو قسم کی پتیاں ہوتی ہیں۔ سبز پتی اور سیاہ پتی۔ توڑنے کے بعد پتوں کے خمیر دار ہونے کے لحاظ سے ہر پتی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ چائے کا مشروب عام طور پر بھگونے یا ابالنے سے بنایا جاتا ہے۔چائے اپنی بناوٹ میں تھائین کے مواد پر مشتمل ہوتی ہے جو اپنی بناوٹ میں کافئین کے مماثل ہے۔ اس کی شرح سبز چائے میں 5فیصد اور کالی چائے میں 3فیصد ہوتی ہے۔ تھائین اپنے فزیالوجیکل خواص میں کافئین کی طرح مگر سیاہ پتی میں تھائین زیادہ نقصان دہ ہے اور اس میں زہریلے مواد پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کہاجاسکتا ہے کہ بدن پر چائے کے بھی وہی اثرات ہیں جو قہوہ کے ہیں۔
چائے کی دو قسم کی پتیاں ہوتی ہیں۔ سبز پتی اور سیاہ پتی۔ توڑنے کے بعد پتوں کے خمیر دار ہونے کے لحاظ سے ہر پتی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ چائے کا مشروب عام طور پر بھگونے یا ابالنے سے بنایا جاتا ہے۔چائے اپنی بناوٹ میں تھائین کے مواد پر مشتمل ہوتی ہے جو اپنی بناوٹ میں کافئین کے مماثل ہے۔ اس کی شرح سبز چائے میں 5فیصد اور کالی چائے میں 3فیصد ہوتی ہے۔ تھائین اپنے فزیالوجیکل خواص میں کافئین کی طرح مگر سیاہ پتی میں تھائین زیادہ نقصان دہ ہے اور اس میں زہریلے مواد پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کہاجاسکتا ہے کہ بدن پر چائے کے بھی وہی اثرات ہیں جو قہوہ کے ہیں۔
قہوہ، کافی
قہوہ کا پودا بہت سے ملکوں میں اگتا ہے جیسے جزیرۃ العرب، حبشہ، سیلون، برازیل اور کئی ایک افریقی ممالک اور اس کانام عربی قہوہ ہے۔ سبز قہوہ کے بھگوئے ہوئے اور نہ بھونے ہوئے بیج بے ذائقہ ہوتے ہیں،قہوہ کو بھوننے یا سینکنے سے ایسے مخصوص عطری مرکبات پیدا ہوتے ہیں جو کافؤل (Cafeol) اور کافؤن (Cafeon) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ عرب ممالک میں قہوہ کا استعمال نویں صدی عیسوی سے عام ہوا اور پھر سترہویں صدی میں یورپ کو منتقل ہوا۔
شروع شروع میں اسے مقبولیت حاصل نہ ہوئی بلکہ اسے کئی ادیبوں نے اپنے مضامین میں مذاق کا نشانہ بنایا۔ انیسویں صدی کی ابتداء سے قہوہ کا استعمال ہرجگہ ہونے لگا بلکہ لوگ اس پر بے تحاشا ٹوٹ پڑے اور یہیں سے قہوہ کے نشہ سے کئی تکالیف پہنچنے لگیں۔ کئی طبی رسالوں نے یورپی ممالک اور امریکہ میں نمودار ہونے والی ان تکالیف کا ذکر کیا۔1905ء میں ولندیزی اور بلیجیائی سب سے زیادہ کافی استعمال کرتے تھے، ان میں سے ہر فرد اوسطاً نو یا دس کلو گرام سالانہ قہوہ استعمال میں لاتا تھا۔ پھر جرمن تھے جو سال میں 3کلو گرام قہوہ استعمال کرتے تھے۔ سب سے آخر میں فرانسیسی تھے ان کا ایک آدمی 2کلو گرام سالانہ قہوہ استعمال کرتا تھا۔ عربی اور اسلامی ممالک میں قہوہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے، یہ مہمان نوازی کی علامت اور سخاوت کا نشان ہے۔ یاد رہے کہ ان ملکوں میں چونکہ قہوہ تھوڑی مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے لہذا اس سے یورپی ممالک میں د یکھے جانے والے شدید قسم کے نشئی پیدا نہیں ہوئے۔
شروع شروع میں اسے مقبولیت حاصل نہ ہوئی بلکہ اسے کئی ادیبوں نے اپنے مضامین میں مذاق کا نشانہ بنایا۔ انیسویں صدی کی ابتداء سے قہوہ کا استعمال ہرجگہ ہونے لگا بلکہ لوگ اس پر بے تحاشا ٹوٹ پڑے اور یہیں سے قہوہ کے نشہ سے کئی تکالیف پہنچنے لگیں۔ کئی طبی رسالوں نے یورپی ممالک اور امریکہ میں نمودار ہونے والی ان تکالیف کا ذکر کیا۔1905ء میں ولندیزی اور بلیجیائی سب سے زیادہ کافی استعمال کرتے تھے، ان میں سے ہر فرد اوسطاً نو یا دس کلو گرام سالانہ قہوہ استعمال میں لاتا تھا۔ پھر جرمن تھے جو سال میں 3کلو گرام قہوہ استعمال کرتے تھے۔ سب سے آخر میں فرانسیسی تھے ان کا ایک آدمی 2کلو گرام سالانہ قہوہ استعمال کرتا تھا۔ عربی اور اسلامی ممالک میں قہوہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے، یہ مہمان نوازی کی علامت اور سخاوت کا نشان ہے۔ یاد رہے کہ ان ملکوں میں چونکہ قہوہ تھوڑی مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے لہذا اس سے یورپی ممالک میں د یکھے جانے والے شدید قسم کے نشئی پیدا نہیں ہوئے۔
سگریٹ میں دس زہر
(1)
نکوٹین:
20ملی گرام فی سگریٹ جو مہلک زہر کتے جیسے جانور کے لئے بھی کافی ہے۔ کتے کو 10فیصد بھی 3,4 منٹ میں ہلاک کرسکتا ہے۔
(2)
کاربن مونو آکسائیڈ:
دھوئیں میں 2 1/2 فیصد یہ خون کے سرخ مادے میں جذب ہوکر سانس کو روکتی ہے اور زیادتی پر موت واقع ہوجاتی ہے۔
(3)
گارسینوجنک:
کینسر پیدا کرنے والے 16 کیمیائی مادوں میں سے ایک جس کے دھوئیں سے جانوروں پر تجزیہ کرنے سے کینسر پیدا کرنا ثابت ہوا ۔
(4)
بھاپ بن کر اڑنے والا مہلک تیزاب۔
(5)
سانائیڈ:
یہ بھی مہلک زہر ہے۔
(6)
سنکھیا:
جو سگریٹ کے دھوئیں میں پایا جاتا ہے۔ اگر کسی جانور کو کھلایا جائے تو وہ سر کے بل لوٹ لوٹ کر دم توڑتا ہے۔
(7)
امونیا:
یہ بھی مضر صحت ہے، دم گھٹنے لگتا ہے، پھیپھڑوں کو جلاکر دائمی تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔
(8)
کولتار:
یہ بھی زہر ہے۔ ایک کلو روزانہ ایک سال تک پینے پر ایک پیالہ کولتار کے مساوی ہے جو مہروں کو جانے والی باریک نالیوں کو مفلوج کردیتے ہیں علاوہ ازیں مہروں کے اندرونی جلد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
(9,10)
فضول اور الکحل:
یہ بھی مہلک زہر ہیں۔
یہ تمام وہ زہریں ہیں جو عام سگریٹ نوش کے جسم میں جذب ہوتی ہیں جو اس کی شاداب اور شگفتہ زندگی کو خشک کردیتی ہیں۔ خوف، وحشت، کمزوری، ذہنی الجھن، کشمکش، انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں جو زندہ رہ کر بھی زندگی کو ترستے ہیں۔ ہر سگریٹ پینے والا یہی کہے گا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ،نقصان ہی نقصا ہے لیکن پھر بھی پئے جائے گا۔ سگریٹ کو دھواں اڑانے سے وقتی طور پر نفسیاتی سکون ملتا ہے۔
مگر سگریٹ کا نقصان دائمی ہے۔ جون 1968ء کو امریکی سائنسدانوں نے کتوں کو سگریٹ نوشی کا عادی بناکر مصنوعی طور پر ان کو پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا کیا گیا تاکہ ’’نکوٹین ‘‘ تمباکو کے زہر کے اثرات کا مشاہدہ کیا جاسکے۔ امریکی ایسوسی ایشن کانگریس کے بموجب سائنسدانوں نے دس کتوں کا انتخاب کیا۔ کتوں کے انتخاب کی اصل وجہ یہ ہے کہ کتوں کے پھیپھڑے اور عضلات، انسانی پھیپھڑوں کے مشابہ ہوتے ہیں۔ کتوں کو روزانہ 12 سگریٹ کا باقاعدہ طریقہ سے عادی بنایا گیا۔ عام سگریٹ نوش بھی تقریباً دن میں 12 سگریٹ ہی نوش کرتا ہے۔ تجربہ کے دوران قلب و خون کے امراض میں مبتلا ہوکر اس میں سے پانچ کتے مرگئے اور بقیہ تمام کتوں کے پھیپھڑے متاثر ہوگئے۔ (1) (ماخوذ از رہنمائے دکن۔ جون 1968ء)
نکوٹین:
20ملی گرام فی سگریٹ جو مہلک زہر کتے جیسے جانور کے لئے بھی کافی ہے۔ کتے کو 10فیصد بھی 3,4 منٹ میں ہلاک کرسکتا ہے۔
(2)
کاربن مونو آکسائیڈ:
دھوئیں میں 2 1/2 فیصد یہ خون کے سرخ مادے میں جذب ہوکر سانس کو روکتی ہے اور زیادتی پر موت واقع ہوجاتی ہے۔
(3)
گارسینوجنک:
کینسر پیدا کرنے والے 16 کیمیائی مادوں میں سے ایک جس کے دھوئیں سے جانوروں پر تجزیہ کرنے سے کینسر پیدا کرنا ثابت ہوا ۔
(4)
بھاپ بن کر اڑنے والا مہلک تیزاب۔
(5)
سانائیڈ:
یہ بھی مہلک زہر ہے۔
(6)
سنکھیا:
جو سگریٹ کے دھوئیں میں پایا جاتا ہے۔ اگر کسی جانور کو کھلایا جائے تو وہ سر کے بل لوٹ لوٹ کر دم توڑتا ہے۔
(7)
امونیا:
یہ بھی مضر صحت ہے، دم گھٹنے لگتا ہے، پھیپھڑوں کو جلاکر دائمی تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔
(8)
کولتار:
یہ بھی زہر ہے۔ ایک کلو روزانہ ایک سال تک پینے پر ایک پیالہ کولتار کے مساوی ہے جو مہروں کو جانے والی باریک نالیوں کو مفلوج کردیتے ہیں علاوہ ازیں مہروں کے اندرونی جلد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
(9,10)
فضول اور الکحل:
یہ بھی مہلک زہر ہیں۔
یہ تمام وہ زہریں ہیں جو عام سگریٹ نوش کے جسم میں جذب ہوتی ہیں جو اس کی شاداب اور شگفتہ زندگی کو خشک کردیتی ہیں۔ خوف، وحشت، کمزوری، ذہنی الجھن، کشمکش، انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں جو زندہ رہ کر بھی زندگی کو ترستے ہیں۔ ہر سگریٹ پینے والا یہی کہے گا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ،نقصان ہی نقصا ہے لیکن پھر بھی پئے جائے گا۔ سگریٹ کو دھواں اڑانے سے وقتی طور پر نفسیاتی سکون ملتا ہے۔
مگر سگریٹ کا نقصان دائمی ہے۔ جون 1968ء کو امریکی سائنسدانوں نے کتوں کو سگریٹ نوشی کا عادی بناکر مصنوعی طور پر ان کو پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا کیا گیا تاکہ ’’نکوٹین ‘‘ تمباکو کے زہر کے اثرات کا مشاہدہ کیا جاسکے۔ امریکی ایسوسی ایشن کانگریس کے بموجب سائنسدانوں نے دس کتوں کا انتخاب کیا۔ کتوں کے انتخاب کی اصل وجہ یہ ہے کہ کتوں کے پھیپھڑے اور عضلات، انسانی پھیپھڑوں کے مشابہ ہوتے ہیں۔ کتوں کو روزانہ 12 سگریٹ کا باقاعدہ طریقہ سے عادی بنایا گیا۔ عام سگریٹ نوش بھی تقریباً دن میں 12 سگریٹ ہی نوش کرتا ہے۔ تجربہ کے دوران قلب و خون کے امراض میں مبتلا ہوکر اس میں سے پانچ کتے مرگئے اور بقیہ تمام کتوں کے پھیپھڑے متاثر ہوگئے۔ (1) (ماخوذ از رہنمائے دکن۔ جون 1968ء)
سگریٹ
سگریٹ جنوبی امریکی پیداوار جس کو ہسپانوی باشندہ کولمبس نے 1492ء میں معلوم کیا۔ 1556ء میں امریکی سرخ باشندوں سے سیکھا۔ 1565ء میں امریکہ سے برطانیہ میں پہنچا۔ پہلا امریکی سگار جنوبی ماریکہ میں 1750ء کو وجود میں آیا اور کارخانہ سگار 1788ء میں قائم ہوا۔ دوسری جنگ عظیم میں 25 کروڑ سگریٹ روزانہ برطانیہ میں تیار ہوتے تھے اب پوری دنیا میں 150 ارب سگریٹ روزانہ تیار ہوتے ہیں۔ دل کے سو مریضوں میں سے 99 سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔ دل کے درد اور سگریٹ نوشی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
Thursday, May 17, 2012
تمباکو
تمباکو امریکی الاصل ہے، اسے ایک اسپینی مبلغ 1518ء میں اسپین لے گیا۔ پرتگال میں فرانس کے سفیر جان نیکوٹ 1560ء میں اس سے واقف ہوئے اور اپنے گھر کے باغیچہ میں اس کی کاشت کی۔ سفیر موصوف نے تمباکو کے پتوں کو شقیقہ کی بیماری کا علاج کرنے کے لئے استعمال کیا پھر انہوں نے اس پودا کا تعارف اپنی ملکہ کیتھرائن سے کروایا جو خود اس بیماری میں مبتلا تھیں، وہ بھی اس بیماری سے شفا یاب ہوئیں۔ اس وقت تمباکو کو پانی میں گھول کر منہ کے ذریعہ سے یا جائے براز میں انجکشن کی صورت میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس عجیب و غریب خیال سے بہت سی ہلاکتیں ہوئیں لیکن اس وقت کوئی ان کی تشریح نہیں کرسکتا تھا۔ سترہویں صدی کے اوائل میں یورپ میں پہلی مرتبہ پائپ ظاہر ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی تمباکو نوشی کا رواج شروع ہوگیا۔ اس کی تجارت کرنے والے مالا مال ہوگئے۔ 1811ء میں نپولین نے تمباکو کو اکٹھا کرنے اور اس کی تجارت کے لئے ایک مخصوص ادارہ قائم کیا۔ یوں تمباکو نوشی کو فروغ ملا۔
تمباکو کا شمار SOLANACEAE کے پودوں میں ہوتا ہے۔ اس کی کاشت کے علاقوں کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے اس کی مختلف انواع ہیں۔ تمباکو کے پودوں کو توڑ لیا جاتا ہے پھر خشک کرلیا جاتا ہے اور انہیں خمیرہ کیا جاتا ہے پھر سگریٹ بنانے کے لئے یاپائپ وغیرہ میں استعمال کی غرض سے مطلوبہ شکلوں میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ تمباکو میں مختلف عطری خوشبوئیں ملائی جاتی ہیں۔ ان میں مخصوص مواد بھی ملایا جاتا ہے ۔ کئی ملکوں میں افیون یا حشیش ملائی جاتی ہے۔ تمباکو جس فعال مواد پر مشتمل ہوتا ہے وہ نیکوٹین (Nicotine) ہے۔ تمباکو کی مختلف اقسام میں نیکوٹین کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً فرانسیسی تمباکو میں ایک سے دس فیصد تک، الجزائر میں اسے 4فیصد تک، مشرقی تمباکو بالعموم نکوٹین سے خالی ہوتا ہے اور اس میں بمشکل پانچ فیصد نکوٹین ہوتی ہے۔ نکوٹین کی مقدار میں کمی بیشی میں تمباکو کو خمیرا کرنے کا اہم کردار ادا ہوتا ہے۔
نکوٹین ایک خطرناک زہریلا مواد ہے جو اپنی کارکردگی میں سیانیڈریک ایسڈ سے ملتا جلتا ہے اور اس کی 2سے 16سینٹی گرام مقدار انسان کی ہلاکت کے لئے کافی ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ نکوٹین سے پیدا ہونے والا نقصان جلنے سے پیدا ہونے والے دیگر مرکبات سے جنم لینے والے نقصان سے بہت کم ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ نکوٹین سے بنیادی درجہ کا پیدا ہونے والا اثر زیادہ نقصان دہ ہے۔
تمباکو کا شمار SOLANACEAE کے پودوں میں ہوتا ہے۔ اس کی کاشت کے علاقوں کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے اس کی مختلف انواع ہیں۔ تمباکو کے پودوں کو توڑ لیا جاتا ہے پھر خشک کرلیا جاتا ہے اور انہیں خمیرہ کیا جاتا ہے پھر سگریٹ بنانے کے لئے یاپائپ وغیرہ میں استعمال کی غرض سے مطلوبہ شکلوں میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ تمباکو میں مختلف عطری خوشبوئیں ملائی جاتی ہیں۔ ان میں مخصوص مواد بھی ملایا جاتا ہے ۔ کئی ملکوں میں افیون یا حشیش ملائی جاتی ہے۔ تمباکو جس فعال مواد پر مشتمل ہوتا ہے وہ نیکوٹین (Nicotine) ہے۔ تمباکو کی مختلف اقسام میں نیکوٹین کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً فرانسیسی تمباکو میں ایک سے دس فیصد تک، الجزائر میں اسے 4فیصد تک، مشرقی تمباکو بالعموم نکوٹین سے خالی ہوتا ہے اور اس میں بمشکل پانچ فیصد نکوٹین ہوتی ہے۔ نکوٹین کی مقدار میں کمی بیشی میں تمباکو کو خمیرا کرنے کا اہم کردار ادا ہوتا ہے۔
نکوٹین ایک خطرناک زہریلا مواد ہے جو اپنی کارکردگی میں سیانیڈریک ایسڈ سے ملتا جلتا ہے اور اس کی 2سے 16سینٹی گرام مقدار انسان کی ہلاکت کے لئے کافی ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ نکوٹین سے پیدا ہونے والا نقصان جلنے سے پیدا ہونے والے دیگر مرکبات سے جنم لینے والے نقصان سے بہت کم ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ نکوٹین سے بنیادی درجہ کا پیدا ہونے والا اثر زیادہ نقصان دہ ہے۔
امفیٹامائن
آج سے تقریباً پچاس سال پہلے امفیٹا مائن کو دوا سازی میں استعمال کیا گیا۔ امفیٹا مائن اور اس کی متعلقہ ادویات مرکزی اعصابی نظام کے لئے محرک اور ہیجان خیز ہوتی ہیں۔ پاکستان میں امفیٹا مائن کو ہزاروں لوگ بالخصوص طلباء ، ٹرک ڈرائیور اور وکلاء استعمال کرتے ہیں۔ یہ گولیاں میتھوڈین، ڈیساکسن، ڈیکٹورین کے نام سے بازاروں میں سستے داموں دستیاب ہیں۔ یہ طبیعت میں جوش، امنگ اور تیزی پیدا کرتی ہیں، کھانے اور سونے کی خواہش مٹادیتی ہیں۔ زیادہ خوراکوں سے مریض شکی مزاج، غصیلا اور تندخو ہوجاتا ہے، پژمردگی، جھلاہٹ اور مایوسی بڑھ جاتی ہے۔ وہ فضول باتیں کرتا رہتا ہے۔ یہ دوا ہیروئن سے سوگنا زیادہ خطرناک اور مہلک ہے۔ جسم سے قوت مدافعت بتدریج ختم ہوجاتی ہے۔ حافظہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مہینوں صرف ہوتے ہیں۔
امفیٹامائن کے مرکبات کو دوسری عالمگیر جنگ کے اختتام میں برتا گیا تاکہ فوجیوں میں جسمانی اور عقلی مشقت کو برداشت کرنے اور بیدار رہنے کی قوت کو بڑھایا جاسکے۔ بہت سی عورتیں ان مرکبات کو وزن کی زیادتی کا علاج کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں تاکہ ان کا جسم دبلا پتلا اور سمارٹ ہو کیونکہ ان مرکبات کے کھانے کے بعد بھوک نہیں لگتی۔
امفیٹامائن کے مرکبات کو دوسری عالمگیر جنگ کے اختتام میں برتا گیا تاکہ فوجیوں میں جسمانی اور عقلی مشقت کو برداشت کرنے اور بیدار رہنے کی قوت کو بڑھایا جاسکے۔ بہت سی عورتیں ان مرکبات کو وزن کی زیادتی کا علاج کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں تاکہ ان کا جسم دبلا پتلا اور سمارٹ ہو کیونکہ ان مرکبات کے کھانے کے بعد بھوک نہیں لگتی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)














